ہندوستان کی 22 ریاستوں میں شورش کا ذمہ دار کون؟

0
650
Supporters of All Parties Hurriyat (Freedom) Conference (APHC) chant slogans as they burn a homemade flag, which they say represents the Indian flag, during a protest to mark India's Independence day as" black day" in Islamabad, Pakistan, August 15, 2016. REUTERS/Faisal Mahmood
ہندوستان کیوں نہیں بتاتا کہ اس کی دوسری ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں کیوں چل رہی ہیں اور ان کی حمایت کون کر رہا ہے۔
ندوستان کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی اور اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے اکثر واقعات کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے تاہم اگر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ہندوستان کے اس دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے۔
نئی دہلی میں قائم ساؤتھ ایشین ٹیررازم پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 20 برس میں لگ بھگ 65,257 افراد ‘دہشت گردی’ کے واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان میں 24,082 عام شہری جبکہ 9,803 سیکیورٹی اہلکار اور 30,672 ‘دہشت گرد’ شامل ہیں۔
ہندوستان کے دارالحکومت میں قائم اس ادارے نے 2005 سے 2016 بہ لحاظ علاقہ اعداد و شمار بھی جاری کیے ہیں، جن کے مطابق سب سے زیادہ سویلین افراد بائیں بازو کی تنظیموں کے پر تشدد واقعات میں مارے گئے ہیں۔

12 سال کے دوران ان بائیں بازو کی جماعتوں کے ہاتھوں مارے گئے افراد کی تعداد 2,909 ہے جو اسی عرصے میں پورے ہندوستان اور کشمیر میں مارے گئے عام افراد کا 37 فیصد ہے۔

 

اس کے بعد دوسرے نمبر پر آسام آتا ہے جہاں 1,279 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ کل ہلاکتوں کا 16 فیصد بنتا ہے۔ کشمیر میں مارے گئے سویلینز کی تعداد پورے ہندوستان کا 15 فیصد ہے تاہم آزاد ذرائع اور تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کی واضح اکثریت ہندوستانی افواج کے ہاتھوں قتل ہوئی ہے۔
اس کے بعد قابلِ ذکر علاقے منی پور، ہریانہ اور مہاراشٹرا ہیں جہاں بالترتیب 597، 497 اور 432 افراد دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہیں۔
سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی بائیں بازو کے انتہاپسندوں کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔ انتہاپسندوں نے گزشتہ 12 برس کے دوران 1,836 سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے جو اسی مدت کے دوران ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا 52 فیصد ہے۔

 

جموں و کشمیر میں 2005 سے اب تک حریت پسندوں کے حملوں میں 870 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جو کل ہلاکتوں کا تقریباً 25 فیصد ہے۔ مزید برآں منی پور میں 196، ہریانہ میں 195، آسام میں 145 اور گجرات میں 108 اہلکاروں کو قتل کیا گیا۔
‘دہشت گردوں’ کی ہلاکتیں
اگرچہ عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں بائیں بازو کے انتہاپسندوں اور آسام میں باغیوں کے ہاتھوں ہوئی ہیں، مگر اسی مدت کے دوران ہندوستانی فورسز نے سب سے زیادہ افراد کو کشمیر میں قتل کیا جنہیں وہ ‘دہشت گرد’ قرار دیتے ہیں۔ تاہم آزاد تجزیہ نگاروں اور کشمیری تنظیموں کے مطابق ہندوستانی افواج نے بڑی تعداد میں عام لوگوں کو مار کر ‘دہشت گرد’ ظاہر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 12 برسوں میں کشمیر میں مارے جانے والے ان مبینہ دہشت گردوں کی تعداد 3,243 ہے جو پورے ہندوستان اور کشمیر میں کل ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا 33 فیصد بنتا ہے۔
دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بائیں بازو کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو مارا گیا۔ یہ تعداد 2,412 ہے، جو کہ کل ہلاکتوں کا 24 فیصد بنتا ہے۔ منی پور میں 1,264، آسام میں 1,056، ہریانہ میں 451، ناگالینڈ میں 427 جبکہ گجرات میں 366 دہشت گردوں کو مارا گیا ہے۔
اگرچہ تینوں زمروں کے اعداد و شمار کو مدِ نظر رکھیں تو فرق صاف عیاں ہے۔ ہندوستان کے دیگر جنگ زدہ علاقوں کے برعکس جموں و کشمیر میں مبینہ دہشت گردوں کے قتل کی شرح سب سے زیادہ ہے، جبکہ ہندوستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو زیادہ نقصان کشمیر نہیں بلکہ ان علاقوں میں ہوا جہاں پاکستان کا کوئی مبینہ عمل دخل نہیں ہے۔
تاہم ہندوستانی سرکار اور اس کا میڈیا ایسا تاثر قائم کرنے کی کوششوں میں ہوتا ہے کہ ہندوستان امن کا گہوارہ ہے اور یہاں بدامنی پاکستان کی وجہ سے ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ہندوستانی وزیرِ اعظم مشرقی پاکستان کے بعد بلوچستان کی بدامنی میں ہندوستان کے کردار کا اقرار کر چکے ہیں جبکہ کشمیر میں چلنے والی تحریک کو اگرچہ پاکستان کی اخلاقی اور سفارتی حمایت حاصل ہے مگر اس وقت یہ تحریک مکمل طور پر مقامی ہے۔

ہندوستان کے اندر جنگ زدہ یا بے امن علاقوں اور وہاں کی تنظیموں کی کچھ تفصیل ذیل میں ہے۔
بائیں بازو کے انتہاپسند
ہندوستانی پورٹل کے مطابق بائیں بازو کے انتہاپسند ملک میں بے امنی کے سب سے بڑے حصہ دار ہیں۔ ان میں درجِ ذیل تنظیمیں شامل ہیں؛
1: ماؤسٹ کمیونسٹ سینٹر
اس تنظیم کا قیام 20 اکتوبر 1969 میں دکشِن دیش کے نام سے وجود میں آیا تھا۔ جب 1969 میں کئی ماؤسٹ گروہوں کے انضمام سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا [مارکسسٹ لیننسٹ] کو وجود میں لایا گیا تو تشدد پسندوں کے ایک گروہ نے دکشِن دیش کے نام سے علیحدہ شناخت کے ساتھ اپنی راہیں الگ کر لیں۔ 1975 میں تنظیم کا نام بدل کر ماؤسٹ کمیونسٹ سینٹر رکھا گیا۔
تنظیم کے اغراض و مقاصد “عوامی جنگ” کے ذریعے “لوگوں کی حکومت” کا قیام ہے۔ تنظیم مغربی بنگال کے بردوان ضلع کے جنگل محل علاقے میں فعال تھی۔ اب یہ بہار، اڑیسہ اور جھارکنڈ میں وجود رکھتی ہے۔
2: پیپلز وار گروپ
پیپلز وار گروپ کا قیام 22 اپریل 1980 کو بااثر نکسل وادی رہنماء اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن کونڈآپالی سیتھارامیہ کی قیادت میں عمل میں آیا تھا۔ بعد میں ان کو تنظیم سے نکال دیا گیا۔
تنظیم کے موجودہ جنرل سیکریٹری کا نام موپالا لکشمن راؤ عرف گنگاپتھی ہیں۔ تنظیم کے اغراض و مقاصد چینی رہنما ماؤ زے تنگ کی نظریات پر اساس رکھتے ہیں۔ تنظیم پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہے اور گوریلا لڑائی کے ذریعے حکومت پر قبضے پر یقین رکھتی ہے۔
3: پیپلز گوریلا آرمی
پیپلز وار گروپ کے عسکری ونگ پیپلز گوریلا آرمی کی بنیاد بہار اور جھارکنڈ میں 2 دسمبر 2000 میں رکھی گئی جبکہ ایک مہینے بعد 2 جنوری 2001 کو شمالی تلینگانہ کے دنداکریانہ جنگل میں ایک گوریلا فورس منظم کی گئی۔
بظاہر اس کا قیام نکسل تشدد سے متاثرہ ہندوستانی ریاستوں میں نکسل وادیوں کے خلاف پولیس کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا۔ اس عسکری تنظیم میں ویلیج ملیشیا اور ایک باقاعدہ فوج شامل ہے جو ریاست پر قبضے کے لیے کارروائیاں کرتی ہے۔ اس کے پلاٹونوں میں 30 تک جنگجو اور ایک کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر شامل ہوتے ہیں۔ ہر پلاٹون سیکشن میں تقسیم ہوتی ہے۔
4: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا- ماؤسٹ
21 ستمبر 2004ء کو ماؤسٹ کمیونسٹ سینٹر آف انڈیا اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) پیپلز وار کے انضمام کے نتیجے میں اس کا وجود عمل میں آیا۔ اس انضمام کا اعلان پیپلز وار گروپ کے آندھرا پردیش کے سیکریٹری راما کرشنا نے حیدرآباد میں 14 اکتوبر 2004 کو ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔ سی پی آئی ماؤسٹ کی پریس ریلیز کے مطابق اتحاد کا مقصد ہندوستان میں “انقلاب” کے مقصد کو آگے بڑھانا ہے۔
5: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا [مارکسٹ لیننسٹ] جناشکتی
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا [مارکسٹ لیننسٹ] جناشکتی کا قیام 30 جولائی 1992ء کو ساتھ کمیونسٹ گروہوں کے سات اور کمیونسٹ ریوولوشنری آف انڈیا کے ایک دھڑے کے انضمام کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ اگرچہ اس جماعت کے پاس باقاعدہ عسکری ونگ ظاہری طور پر موجود نہیں ہے، مگر مختلف رپورٹوں کے مطابق اس کے پاس 300 کے لگ بھگ ایسے کارکنان موجود ہیں جنہیں بھتہ جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پنجاب میں دہشت گردی
1970 کی دہائی میں ہندوستانی سبز انقلاب سے پنجاب کی سکھ کمیونٹی کی اقتصادی خوشحالی میں اضافہ ہوا۔ اس رجحان نے سکھ برادری کے اندر ایک عرصہ پرانے خوف کو بھڑكايا کہ ہندو سماج ان کا استحصال کر رہا ہے، جس سے سکھوں میں عسکریت پسندی نے جنم لیا اور دہشتگردی پر یقین رکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
1980 کی دہائی کے دوران انتہا پسندی کا رجحان تیز تر ہوتا گیا۔ کچھ ہی عرصے میں تحریک نے تشدد کا رخ اختیار کیا اور “خالصتان” کے نعرے کے تحت ہندوستانی یونین سے آزاد ہونے کی کوشش کی گئی۔ 84-1983 میں اس تحریک کو سکھوں کی وسیع حمایت حاصل ہو گئی اور اس معاملہ نے خونی موڑ لے لیا۔
پنجاب میں بابرخالصہ انٹرنیشنل، انٹرنیشنل سکھ یوتھ فیڈریشن، خالصتان زندہ باد فورس، اور خالصتان کمانڈو فورس فعال عسکری تنظیمیں ہیں جبکہ 8 کے لگ بھگ ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو اگرچہ فی الحال فعال نہیں لیکن مختلف واقعات میں ملوث رہی ہیں۔
آسام
ہندوستان میں آسام کا مسئلہ بہت پرانا ہے۔ تقسیم ہند کے فوراً بعد جب مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) سے ہندو ہندوستان کی جانب ہجرت کرنے لگے تو مقامی آبادی کی طرف سے اس کی مزاحمت کی گئی۔
جولائی 1997ء میں آل آسام اسٹوڈنٹ یونین اور آل آسام گنگا سنگرام پریشد نے مہاجرین کے نام ووٹر لسٹ سے نکالنے اور ان کو واپس بنگلہ دیش بھیجنے کے لیے ایک عوامی مہم شروع کردی۔
ان کا مطالبہ تھا کہ 1951 کے بعد ہندوستان جانے والوں کو نکال دیا جائے جبکہ حکومت 1971 سے پہلے کے مہاجرین کو واپس بھیجنے پر راضی نہیں تھی۔
دسمبر 1979 میں آسام میں صدر راج قائم کیا گیا۔ اس سے قبل 7 اپریل 1979 کو یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نامی عسکریت پسند تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد کئی مذاکرات اور آپریشن کے بعد یو ایل ایف اے کے 4000 دہشت گردوں نے مارچ 1992 میں ہتھیار ڈال دیے لیکن تنظیم نے میانمر کی سرحد اور بھوٹان میں عسکری تربیت کے کیمپ قائم کیے اور اب تک فعال ہے۔
منی پور
مانی پور کو لسانی اور ثقافتی تنوع کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں پر سترہویں صدی میں ہندوازم میں داخل ہونے والے اکثریتی قبیلے ‘میتی’ کا خیال ہے کہ ‘ہندو ہندوستان’ کے ساتھ منسلک ہونے سے ان کو کوئی خاص سیاسی یا اقتصادی فائدہ نہیں ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ 24 نومبر 1964 میں یہاں سمریندرا سنگھ نے یونائیٹڈ نیشنل لبریشن فرنٹ نامی علیحدگی پسند جماعت کی بنیاد رکھی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے دوران جماعت کے کئی اہم رہنماء پکڑے گئے جس سے تنظیم کا زور ٹوٹ گیا۔
14 جون 1975 میں چینی معاونت کے حصول کے لیے جیل سے رہائی پر بشوسور سنگھ 16 افراد کی ٹیم کے ساتھ لاشا، تبت گیا۔ ستمبر 1978 میں عسکری تربیت کے حصول کے بعد واپسی پر بشوسور نے پیپلز لبریشن آرمی کی بنیاد رکھی۔ منی پور میں پی ایل اے سمیت کئی علیحدگی پسند تنظیمیں فعال ہیں۔
تاریخ اور ان تمام اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد ہندوستان کے اس دعوے کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی کہ اس کے ہاں بدامنی میں پاکستان ملوث ہے۔ اگر اس کے الزام کے مطابق جموں و کشمیر میں دہشتگردی پاکستان کروا رہا ہے، تو کیا ہندوستان یہ بتانا پسند کرے گا کہ پاکستان سے ہزاروں کلومیٹر دور ہندوستان کی دوسری جانب موجود ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں کیوں چل رہی ہیں اور ان کی حمایت کون کر رہا ہے؟
ہندوستان کے پاس یقیناً اس سوال کا جواب نہیں ہے، لہٰذا ہر عالمی فورم پر اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ عالمی برادری کی تمام تر توجہ صرف کشمیر میں ہونے والے واقعات پر رہے تاکہ وہ ان کا سہارا لے کر پاکستان کو دہشتگرد قرار دے سکے۔ وہ کبھی بھی اپنی دیگر ریاستوں میں ہونے والی قتل و غارت سے پردہ نہیں اٹھنے دینا چاہتا کیوں کہ ایسی صورت میں اس کے پاس پاکستان پر الزام لگانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY