چین دنیا کے تمام گدھے خریدنے کا خواہشمند

0
539

ویسے تو چین کی معاشی ترقی کی رفتار حیران کن ہے مگر آج کل یہ ملک دنیا بھر سے گدھوں کو خریدنے میں مصروف ہے بلکہ لگتا ہے کہ اس کی پوری نسل کو اپنے ہاں منگوا لینا چاہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مختلف افریقی ممالک نے چین کو گدھے فروخت کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار ٹانگوں والے اس جانور کی طلب میں ناقابل برداشت اضافہ ہوچکا ہے۔

سب سے پہلے افریقی ملک نائیجر نے ستمبر میں گدھوں کی برآمد پر پابندی کا اعلان کیا اور بتایا کہ ایک سال کے دوران ایشیائی ممالک میں اس جانور کی برآمد میں تین گنا اضافہ ہوا۔

اس کے بعد برکینا فاسو نے بھی گدھوں کی کھالوں کی برآمد روک دی جو کہ ایک روایتی چینی دوا کی تیاری کے لیے استعمال ہوتی جسے دوران خون بہتر بنانے، غشی کے دوروں اور دل متلانے جیسے امراض کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

گدھوں کی کھالوں میں کی چین میں درآمد میں یہ ڈرامائی اضافہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ وہاں اس جانور کی آبادی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

1990 کی دہائی سے اب تک چین میں گدھوں کی تعداد ایک کروڑ سے کم ہوکر پچاس لاکھ کے قریب آگئی ہے۔

افریقی ممالک نے کہا ہے کہ گدھوں کی چین کو برآمد کا سلسلہ جاری رہا تو ہمارے ہاں بھی یہ جانور نایاب ہوجائے گا، جبکہ گدھے کی اوسط قیمت میں تین گنا اضافہ ہوچکا ہے اور اکثر افراد گائے بھینسوں کی بجائے اب اس جانور کو پالنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

چینی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گدھوں کی کھال سے تیار ہونے والی دوا چین میں بہت مقبول ہے مگر جانوروں کی کمی کی وجہ سے اس کی قلت ہوگئی ہے۔

چین کو گدھے برآمد کرنے کے حوالے سے دو چینی افراد نے کینیا میں ذبح خانے بھی بنا رکھے ہیں جبکہ کینیا کی حکومت نے مزید مذبح خانوں کی تشکیل کی بھی منظوری دے رکھی ہے۔

چین کو گدھوں کی فروخت پر پابندی

بیجنگ: پاکستان میں تو گدھے صرف مال برداری کے ہی کام آتے ہیں لیکن چین میں گدھوں کی کھال سے جیلاٹن (Gelatin) نامی ایک پروڈکٹ بنائی جاتی ہے، جو یہاں کی ایک مشہور روایتی دوا ایجیاؤ (ejiao) میں استعمال ہوتی ہے، جو ٹھنڈ لگ جانے سے نیند نہ آنے (insomnia) جیسے مرض کے لیے مفید ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چین پوری دنیا سے گدھے درآمد کرنے کے لیے کوشاں ہے، تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق اس طرح سے گدھوں کی آبادی میں کمی واقع ہو رہی ہے اور اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 20 برسوں کے دوران ان کی آبادی 11 ملین سے 6 ملین ہوچکی ہے۔

چین میں گدھوں کی کھال سے جیلاٹن نامی پروڈکٹ بنائی جاتی ہے، جو روایتی دوا ایجیاؤ میں استعمال ہوتی ہے—۔فوٹو/بشکریہ سی این این

یہی وجہ ہے کہ چین اب اس مقصد کے لیے افریقہ کی جانب دیکھ رہا ہے اور دوسرے براعظم سے گدھے درآمد کیے جارہے ہیں۔

لیکن نائیجر وہ افریقی ملک ہے، جس نے حال ہی میں چین کی جانب سے بڑھتی ہوئی فروخت کے بعد گدھوں کی برآمد پر پابندی عائد کی۔

حکومتی افسران کا کہنا ہے کہ رواں برس اب تک تقریباً 80 ہزار گدھے فروخت کیے جاچکے ہیں جبکہ 2015 میں یہ تعداد 27 ہزار تھی، ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو گدھوں کی آبادی ‘تہس نہس’ ہوجائے گی۔

اس سے قبل رواں برس اگست میں برکینا فاسو نے بھی یہی قدم اٹھایا، جہاں 6 ماہ کے دوران 45 ہزار گدھوں کو ذبح کیا گیا، جن کی کل آبادی 14 لاکھ ہے۔

ان دونوں کیسز میں گدھوں کی قیمت میں اضافہ ہوا اور ملک کی غیر ملکی صنعت قابل قدر سطح پر پہنچ گئی، لیکن اس کی قیمت گدھوں کی آبادی میں کمی کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔

دوسری جانب گدھوں کی آبادی میں کمی کے ساتھ ساتھ اس نئی صنعت سے ماحولیاتی اور معیشت کے مسائل بھی سامنے آئے۔

نائیجر اور برکینا فاسو میں گدھوں کی کھال اور گوشت کی طلب میں اضافے سے دوسرے شعبوں میں بھی مہنگائی کا رجحان سامنے آیا اور دیگر جانوروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق برکینیب کے گاؤں بالولے میں کسانوں نے مبینہ طور پر ایک مذبح خانے پر حملہ کرکے اسے بند کروا دیا۔

چین میں گدھوں کی کھال کی بڑھتی ہوئی طلب نے اگرچہ برآمد کنندگان کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم چین میں جیلاٹن کی طلب بہت زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر افریقی ممالک اس پر توجہ دیں اور اپنے لوگوں کو اس حوالے سے تربیت دیں تو گدھے ان کے لیے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوسکتے ہیں۔

اگرچہ برکینا فاسو نے گدھوں کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اسے خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہیں۔

دوسری جانب کینیا اور جنوبی افریقہ، چین کی ڈیمانڈ کے مطابق اپنے وسائل میں اضافہ کر رہے ہیں اور اس طرح خطے میں ایک بلیک مارکیٹ بھی وجود میں آرہی ہے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY