چلنے والی مچھلی سمیت 200 نئی انواع دریافت

0
1136

چلنے والی مچھلی، انوکھی ناک والا ایسا بندر جو بارش میں چھینکنے لگے اور ایک ایسا مینڈک جس کی آنکھیں کسی فیروزے جیسی اور ایسے ہی دیگر درجنوں جانوروں اور پودوں کی اقسام کو گزشتہ دنوں مشرقی ہمالیہ میں دریافت کیا گیا ہے۔

عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق 2009 سے 2014 کے درمیان دو سو سے زائد نئی اقسام کے پودے اور جانور دریافت کیے گئے ہیں۔

ان میں 133 پودے، 39 غیر فقاری جانور (جن کی ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی)، 26 مچھلیاں، 10 ایمفیبین (پانی اور خشکی دونوں جگہ رہنے والے)، ایک رینگنے والا، ایک پرندہ اور ایک ممالیہ جانور کو پانچ برسوں کے درمیان دریافت کیا گیا۔

یہ سب بھوٹان، شمال مشرقی ہندوستان، نیپال، شمالی میانمار (برما) اور تبت کے جنوبی حصوں سے دریافت ہوئے۔

برما میں دریافت ہونے والے کھلی ناک والے بندر کو رائنو پائیتھیکس کا نام دیا گیا ہے جو اپنی طرز کا سب سے بڑا بندر کا ہے مگر اس کی نسل کو انتہائی خطرات لاحق ہیں۔

گہرے سیاہ رنگ کی کھال کے ساتھ اس کی عجیب اوپر کی جانب گھومی ہوئی ناک بظاہر اس وقت پانی سے بند ہوجاتی ہے جب بارش ہوتی ہے جس کے باعث وہ چھینکیں مارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

ایسے ہی ایک زبردست دریافت نیلگوں مائل مچھلی کی ہے جو کھلی ہوا میں سانس بھی لے سکتی ہے اور سطح پر آکر چار روز تک زندہ بھی رہ سکتی ہے۔

مغربی بنگال میں دریافت ہونے والی اس مچھلی کو سائنسدانوں نے چھنا آندراﺅ کا نام دیا ہے اور یہ اپنے شکار کے لیے زمین پر آکر چل بھی سکتی ہے۔

اسی طرح پروٹو بوتوروپس نامی سانپ کو بھی دریافت کیا گیا ہے جو دیکھنے میں عام سانپ کی بجائے کسی زیور کا حصہ لگتا ہے۔

ایک اور وائپر بھی ہندوستان میں دریافت کیا ہے جس کا ابھی تک نام نہیں رکھا گیا جس کی دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ان کے قریب جانے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ایک دوسرے کو ڈنک مار کر ہلاک کردیتے ہیں یا یوں کہہ لیں خودکش حملہ کردیتے ہیں۔

سائنسدانوں نے انتباہ کیا ہے کہ ان میں سے بیشتر جانور پہلے ہی خطرے کی زد میں ہے کیونکہ ان کے علاقوں کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہوچکے ہیں۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY