’ای سگریٹ 95 فیصد کم نقصان دہ‘

0
1540

ایک تحقیق کے مطابق ای سگریٹ عام تمباکو کے مقابلے پر 95 فیصد کم نقصان دہ ہیں، اور امکان ہے کہ انھیں مستقبل میں تمباکونوشی کی عادت چھڑوانے میں مدد دینے کے لیے برطانیہ کی نیشل ہیلتھ سروس کے تحت تجویز کیا جائے گا۔

برطانوی عوام کی صحت کے لیے اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو سگریٹ چھوڑنے سے راغب کرنے کے لیے یہ ’گیم چینجر‘ ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس سے بچوں کو سگریٹ نوشی کی ترغیب ملتی ہے۔

e- cigarettes are 95% less injurious

صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں نے اس اقدام کو سراہا ہے لیکن برطانیہ کی میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل ویلز کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ بند مقامات پر ای سگریٹ پر پابندی کا ارادہ رکھتی ہے۔

ای سگریٹ برطانیہ کے بالغ افراد میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

ماہرین صحت اس بات پر منقسم ہیں کہ یہ تمباکونوشی کا محفوظ متبادل ہے یا اس مہلک لت کی جانب ایک اور راستہ ہے۔

برطانیہ کے ادارہ برائے عوامی صحت نے ماہرین کی ٹیم سے اس کے ثبوت کی جانچ کے لیے کہا ہے۔

تحقیق سے اخذ کیے گئے نتائج سے یہ پتا چلتا ہے کہ ای سگریٹ محفوظ ہیں اور تمباکو نوشی کے مقابلے میں 95 فیصد کم نقصان دہ ہیں۔

لندن کے کننگز کالج کی پروفیسر اور اس رپورٹ کی مصنفین میں شامل پروفیسر این میک نیل کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ صحت عامہ کے لیے ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔

e- cigarettes are 95% less injurious

ان کا کہنا تھا کہ ’ہر سال (برطانیہ میں) 80 ہزار افراد تمباکوشی سے مر جاتے ہیں۔ اگر تمباکونوشی کرنے والے تمام افراد ای سگریٹ پر منتقل ہوجائیں تو یہ تعداد کم ہو کر چار ہزار تک آجائے گی ۔ اس وقت یہ سب سے بہترین تخمینہ ہے اور یہ تعداد اس بھی کم ہو سکتی ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اور انسدادِ تمباکو نوشی کے ادارے، ای سگریٹ طبی ضروریات کے لیے لائسنس یافتہ نہ ہونے کی باعث انھیں تجویز نہیں کر سکتے۔ انھیں امید ہے کہ مستقبل میں یہ مشکل بھی نہیں رہے گی۔

پروفیسر میک نیل کا کہنا ہے کہ وہ ماہرین صحت سے یہ درخواست کریں گی کہ وہ تمباکو نوشی ترک کرنے کا ارادہ کرنے والوں کے ساتھ ای سگریٹ کے استعمال کے بارے میں بات کریں۔

’اگر میں تمباکو نوشی ترک کرنے کی سروس چلا رہی ہوتی تو میں ای سگریٹ پینے کے خواہشمند لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی۔ میں سگریٹ نوشی ترک کرنے میں مددگار ثابت ہونے والی ادویات کے استعمال کی بھی سفارش کرتی۔‘

رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد کو اس کے محفوظ ہونے پر شکوک و شبہات ہیں۔ تقریباً نصف آبادی (44.8) فیصد کو احساس نہیں کہ ای سگریٹ تمباکو نوشی کے مقابلے میں بہت کم نقصان دہ ہے۔

پبلک ہیلتھ برطانیہ میں صحت کے ڈائریکٹر پروفیسر کیون فینٹون کا کہنا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے ان چیزوں کو جاننا ضروری ہے جنھیں وہ ’نقصان دہ خرافات‘ سمجھتے ہیں۔

’تمباکو نوشی کے مقابلے میں ای سگریٹ مکمل طور پر خطرے سے پاک نہیں ہے، ثبوتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کم نقصان دہ ہے ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ای سگریٹ اتنی ہی نقصان دہ ہے جتنی تمباکو نوشی۔‘

مضبوط قانون

رپورٹ کے مطابق ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بچے یا وہ لوگ جو تمباکو نوشی نہ کرتے ہوں وہ ای سگریٹ کی طرف راغب ہو رہے ہوں۔ اس کا روزانہ استعمال ان لوگوں تک ’محدود‘ ہے جو پہلے سے تمباکو نوشی کررہے ہوں۔ برطانیہ میں ای سگریٹ تمباکو نوشی ترک کرنے والوں کے لیےمددگار ثابت ہو رہی ہے۔

تمباکو نوشی اور صحت کے ادارے (اے ایس ایچ) کی چیف ایگزیکٹیو ڈیبورا آرنوٹ نے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تحقیق سے واضح پتہ چلتا ہے کہ ای سگریٹ تمباکو نوشی کے مقابلے میں بہت کم نقصان دہ ہے۔ پبلک ہیلتھ برطانیہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کا وقت بڑا مناسب ہے۔ اس بیان سے ماہرین صحت ، عوام، میڈیا اور خصوصی طور پر تمباکو نوشی کرنے والوں کا ای سگریٹ پر اعتماد بحال ہو گا۔

برطانیہ کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رپورٹ سے فائدہ مند بحث میں اضافہ ہو گا لیکن انھوں نے عوام کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ برطانیہ کی میڈیکل ایسوسی ایشن نے ماضی میں ای سگریٹ کے استعمال پر پابندی کی حمایت کی تھی۔

’ہمیں ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت ہے جو طے کرے کہ عوام کی صحت کے لیے کیا مفید ہے۔ ماہرین صحت ای سگریٹ کے معیار اورخدشات سے آگاہ کریں کیا یہ مکمل محفوظ اور تمباکو کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے۔

ویلز کی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں خدشہ ہے کہ ای سگریٹ کے استعمال سے تمباکو نوشی دوبارہ معمول بن جائے گی، خاص طور پر اس نسل کے لیے جو تمباکو نوشی سے پاک معاشرے میں پلی بڑھی ہو۔

’یہ صرف ہمارے ہی خدشات نہیں ہیں بلکہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی ای سگریٹ کے لیے قوانین کا مطالبہ کیا ہے اور 40 ممالک نے اسی طرح کے اقدامات کیے ہیں۔‘

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY