فیس بک 2016 میں سیٹلائٹ لانچ کرے گی: مارک زوکربرگ

0
912

فیس بک کے بانی مارک زوکر برگ نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی خلا میں سیٹلائٹ لانچ کرنے جا رہی ہے جس سے افریقہ کے دور دراز کے علاقوں کو انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہوگی۔

فیس بک اپنا پہلا سیٹلائٹ فرانس کی خلائی کمپنی یوٹیلسیٹ کی شراکت میں آئندہ سال سنہ 2016 میں لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پسماندہ علاقوں کے لیے فیس بک کا انٹرنیٹ ڈرون

مارک زوکربرگ نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا: ’ہم پوری دنیا کو (انٹرنیٹ) جوڑنے کے لیے کام کرتے رہیں گے خواہ اس کے لیے ہمیں اپنے سیارے (زمین) کے باہر ہی کیوں نہ دیکھنا پڑے۔‘

یہ پروجیکٹ فیس بک کے انٹرنیٹ ڈاٹ او آر جی (Internet.org) کا حصہ ہے اور اس پروجیکٹ پر بعض ممالک میں سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

بعض خطوں، بطور خاص بھارت میں، اس شعبے سے منسلک لوگوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک اور ان کے شراکت داروں کو انٹرنیٹ کے بازار میں فروغ کا ناجائز موقع دیا گیا۔

انٹرنیٹ ڈاٹ او آرجی دور دراز کے ناقابل رسا علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولیات پہنچانے کے لیے مختلف طریقوں پر کام کر رہا ہے۔ حال ہی میں کمپنی نے کہا تھا کہ وہ کس طرح انٹرنیٹ کنکٹیویٹی کے لیے مخصوص قسم کے ڈرونز کا استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

مارک زوکربرگ نے لکھا: ’گذشتہ سال فیس بک انٹرنیٹ تک رسائی بہم پہنچانے کے لیے طیاروں اور سیٹلائٹ کے استعمال کے بارے میں مختلف طریقوں پر غور کررہا تھا۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’دوردراز کے علاقوں کے لوگوں کو انٹرنیٹ سے جوڑنے کے لیے روایتی ذرائع مشکل اور غیر موثر تھے اس لیے ہمیں نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت محسوس ہوئی۔‘

دوسری جانب یوٹیلسیٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیٹلائٹ سنہ 2016 کے دوسرے نصف میں لانچ ہوگا تو صارفین ’آف دا شیلف‘ خدمات حاصل کرسکیں گے۔

کمپنی نے کہا کہ انٹرنیٹ تک رسائی کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا اور ’ڈائریکٹ ٹو یوزر‘ یعنی صارفین کو براہ راست انٹرنیٹ فراہم کرنا قابل عمل اور سستا بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ پہلے سے ہی بہت سی کمپنیاں سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کر رہی ہیں لیکن یہ مہنگا ہے اور ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی مالی صلاحیت پر بار گراں ہے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY