’مودی‘، ’را‘ کی تمام چالوں کو سمجھ چکے ہیں،آرمی چیف

0
366

راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ ’مودی‘ ہو، ’را‘ ہو یا کوئی اور، ہم دشمن کی چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں، جبکہ کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو ہر قیمت اور ہر سطح پر توڑیں گے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک ۔ چین اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دنیا چاہے کچھ بھی سمجھے لیکن ہم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے طوفان پر جس طرح قابو پایا دنیا میں کوئی اور نہیں کرسکا۔
انہوں نے کہا کہ فوج پوری قوم کی بھلائی کے لیے کام کر رہی ہے، نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاک فوج آپ کی فوج ہے، ملک اور سرحدیں بالکل محفوظ ہیں اور ملکی سلامتی کے لیے آخری حد سے بھی آگے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگوں سے زیادہ جفاکش کوئی نہیں، جبکہ چینی قیادت بھی گلگت بلتستان کو ارمچی کی طرح ترقی دینا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان،گلگت اورآزاد کشمیر کے لوگوں نے ہماراشکریہ ادا کیا، مودی
آرمی چیف نے کہا کہ ’مودی‘ ہو، ’را‘ ہو یا کوئی اور، ہم دشمن کی چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں، لیکن وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ صحیح سمت میں جارہے ہیں، آپریشن ’ضرب عضب‘ میں پیشرفت ہو رہی ہے اور کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو ہر قیمت اور ہر سطح پر توڑیں گے۔
انہوں نے سی پیک کی سیکیورٹی ہر قیمت پر یقینی بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
یاد رہے کہ نریندر مودی نے 15 اگست کو یوم آزادی کی تقریب سے خطاب میں پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا بلوچستان، گلگت اور آزاد کشمیر کے لوگوں نے ہمارا شکریہ ادا کیا۔
نریندر مودی کا اشارہ اپنی اس تقریر کی جانب تھا جو انہوں نے چند روز قبل کی تھی اور اس میں انہوں نے بلوچوں پر مبینہ ظلم و زیادتی پر پاکستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
مزید پڑھیں: 46 ارب ڈالر: پاکستان فائدہ کیسے اٹھائے؟
واضح رہے کہ یاد رہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے اپریل 2015 میں دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان 46 ارب ڈالرز کے متعدد معاہدوں اور یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔
چینی صدر نے پاکستان کے ٹوٹ پھوٹ کے شکار انفرااسٹرکچر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس میں سے 37 ارب ڈالر توانائی کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے، تاکہ ملکی ترقی میں رکاوٹ بننے والے توانائی بحران کو ختم کیا جاسکے۔
ان میں سب سے اہم منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ہے، جس کے تحت بلوچستان کی گوادر بندرگاہ سے لے کر چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ تک سڑکوں، ریلوے لائنوں، اور پائپ لائنوں کا ایک جال بچھایا جائے گا۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY